Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
295 - 470
 اُسے غنی کر دے گا اور جو صبر چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے صبر عطا کرے گا اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہ ملی۔ (سُنَنُ الدََّارِمِی، کتاب الزکاۃ، باب فی الاستعفاف عن المسألۃ، ص۴۸۱، الحدیث:۱۶۵۲)
	شارِحِ مشکوٰۃ،  حکیم ُ الا ُمّت مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس حدیثِ پاک کی شرح میں  فرماتے ہیں  : وہ حضرات مانگتے رہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دیتے رہے انہیں  سب کچھ دے کر مسئلہ بتایا، اس میں  تبلیغ بھی ہے اور سخاوتِ مطلقہ کا اِظہار بھی۔ خیال رہے کہ جس کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کچھ خوش ہوکر دیا ہے وہ بہت عرصہ تک ختم نہ ہوا، چُنانچِہ حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  اور حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ   کو تھوڑے تھوڑے جَو عطا فرمائے تھے جو اُن بُزُرگوں  نے سالہا سال کھائے اور کھلائے، پھر جب تولے تو اتنے ہی تھے مگر تولنے سے ختم ہو گئے حضرتِ سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کے ہاں  ساڑھے چار سَیر(تقریباً چار کلو)  جَو کی روٹی پر سینکڑوں  آدمیوں  کی دعوت فرمائی۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے، ’’اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ یعنی میں  اپنے بندے کے گمان کے قریب رہتا ہوں ۔‘‘ اس کا ظہور آخرت میں  تو ہوگا ہی، کہ اگر بندہ معافی کی اُمّید کرتا ہوا مرجائے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے معافی ہی ملے گی، اکثر دنیا میں  بھی ہوجاتا ہے کہ جو قرض نہ لینے نہ مانگنے کا خدا کے بھروسے پر پورا ارادہ کرلے تو