حدیث میں آپ نے پڑھ لیا کہ صبر کی ان تینوں قسموں کا بڑا درَجہ ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قراٰنِ مجید میں ارشاد فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) (پ۲ البقرۃ: ۱۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔
صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِمداد ونصرت ہوتی ہے اور صابرین کا مددگار اللہ عَزَّوَجَلَّ ہوتا ہے۔ سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اس سے بڑھ کر صبر کا اجر وثواب کیا ہو گا کہ خدا عَزَّوَجَلَّ صابرین کے ساتھ ہوتا ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ کچھ اَنصاری لوگوں نے حضور نبیِّ پاک، صاحبِ لَولاک، سیَّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کیا حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دیا انہوں نے پھر مانگا، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عطافرمایا حتّٰی کہ وہ مال جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس تھا ختم ہوگیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:جو کچھ مال میرے پاس ہو گا وہ تم سے ہرگز بچا نہ رکھوں گا اور جو سوال سے بچنا چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بچائے گا اور جو غنی بننا چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ