Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
293 - 470
تشریحات وفوائد
	صبر کے معنٰی ’’حَبْسُ النَّفْسِ عَلَی الْمَکَارِہِ‘‘ یعنی نفس کو تکلیفوں  کے اُوپر روکے رہنا اور کنٹرول میں  رکھنا، اب غورکیجئے کہ صبرکی تینوں  قسموں  پریہ تعریف صادق آتی ہے۔ (1)…صَبْرٌ عَلَی الْمُصِیْبَۃ ’’یعنی مصیبت پر صبر‘‘ ظاہر ہے کہ مصیبت کے وقت نفس میں  بڑی بے چینی اور بے قراری پیدا ہوتی ہے اور بعض مرتبہ ایسی بوکھلاہٹ بلکہ جنون ودیوانگی کی کیفِیَّت پیدا ہو جاتی ہے کہ انسان رونے پیٹنے، بال نوچنے اور کپڑے پھاڑنے لگتا ہے اب اسی موقع پر اپنے نفس کو رونے پیٹنے اور جزع وفزع کی حرکتوں  سے روکے رہنا یہی 'مصیبت پر صبر کرنا' ہے۔
(2)…صَبْرٌ عَلَی الطَّاعَۃِ  ’’یعنی عبادت پر صبر‘‘ظاہرہے کہ گرمیوں  کا روزہ ہو اور آدمی پیاس کی شدَّت سے بے قرار ہو اور سامنے ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا شربت رکھا ہوا ہو نفس بار بار شربت کی طرف لپکتا ہے مگر روزہ دار نفس کو روکے ہوئے ہے جو نفس پر گراں  اور شاق ہے یہی 'عبادت پر صبر کرنا'ہے۔
(3)… صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ  ’’یعنی گناہ سے صبر‘‘جوان آدمی ہے، شہوت کا غلبہ، شباب پر ہے، بدکاری کے لئے نفس بے قرار ہے مگر پرہیزگار مسلمان(مرد وعورت)  اپنے نفس کو روکے ہوئے ہے اور بدکاری سے بچا ہوا ہے۔ صَبْرٌ عَنِالْمَعْصِیَۃِ یعنی یہی گناہ سے صبر کرنا ہے۔