آگے رہو اور سرحد پر اسلا می ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس اُمّید پرکہ کامیاب ہو۔‘‘
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطْبوعہ 244 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب ’’بِہِشت کی کنجیاں ‘‘ صفْحہ220 پر شیخ الحدیث حضرتِ علَّامہ مولیٰنا عبدُ المصطفیٰ اَعظَمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے مروی ہے کہ صبر تین ہیں : (۱)…مصیبت پر صبر (۲)…عبادت پر صبر (۳)…گناہ سے صبر، تو جو مصیبت پرصبرکرے یہاں تک کہ مصیبت کواچھی تسلِّی سے دُور کردے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے 300 درَجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درَجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ زمین وآسمان کے درمیان ہے اور جو عبادت پر صبر کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے 600درَجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درَجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ زمین کی نچلی کیچڑ اور تمام زمینوں کے منتہٰی کے درمیان فاصلہ ہے اور جو گناہ سے صبر کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے 900 درَجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درَجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتاہے جتنا کہ زمین کی نچلی کیچڑ وں اور عرش کے منتہٰی کے درمیان کے دُو گنے کے درمیان فاصلہ ہے۔ (کَنْزُ الْعُمَّال، ج۳ کتاب الاخلاق، فضیلۃ الصبر، ص۱۱۱، الحدیث:۶۵۱۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد