دُنیوی مشکلات پر صبر کی تلقین
حضرتِ سیِّدُنا جابربن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ سیِّدَہ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو دیکھا،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اُونٹ کے بالوں سے بنا موٹا لباس پہنے چکی پیس رہی تھیں ، نبیوں کے سلطان، رحمتِ عالَمِیّان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھوں سے سَیلِ اَشک رواں ہو گئے پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’(آج) دنیا کی تنگی وسختی پر صبر کرو تاکہ کل جنّت کی اَبَدی نعمتیں حاصل ہوں ۔‘‘
(کنز العُمَّال، کتاب الفضائل، باب فضائل النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، ج۱۲، ص۱۹۰،الحدیث:۳۵۴۷۰)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! کیسی تربِیَّت تھی کہ اتنے مصائب وآلام مگر زباں پر حرفِ شکایت نہیں بلکہ راضی برضا ہیں اپنی تکلیف کا کسی سے ذکر نہیں کرتیں اور ایک ہم نادان ہیں کہ معمولی سی تکلیف آ جائے تو آسمان سر پہ اُٹھا لیتی ہیں ۔ اللہ والے مصائب پر صبر کرتے ہیں اور صبر کے بارے میں تو ہمارا ربّ عَزَّوَجَلَّ بھی فرماتا ہے ، چُنانچِہ پارہ4، سورۃ اٰلِ عمران، آیت نمبر200میں ارشادِ خدائے رحمن ہے:
’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو! صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے