Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
290 - 470
بے اس کے اِذن کے (یعنی اس کی اِجازت کے بغیر) محارم سوا کہیں  نہیں  جا سکتی اور محارم کے یہاں  بھی ماں  باپ کے یہاں  ہر آٹھویں  دن وہ بھی صبح سے شام تک کے لئے اور بہن، بھائی، چچا، ماموں  ، خالہ، پھوپی کے یہاں  سال بھر بعد اور شب (یعنی رات)  کو کہیں  نہیں  جا سکتی۔(فَتاویٰ رَضَوِیّہ،ج۲۴، ص۳۸۰)
	 ایک اور مقام پر فرمایا: اُمورِ متعلقہ زن شوی میں  مطلقاً اس کی اطاعت (یعنی میاں  بیوی سے متعلق مُعامَلات میں  بیوی مطلقاً شوہر کی فرمانبرداری کرے) کہ ان اُمور میں  اس کی اِطاعت والِدَین پر بھی مُقدَّم ہے، اس کے ناموس کی بشِدَّت (یعنی سختی سے) حِفاظت، اس کے مال کی حِفاظت، ہر بات میں  اس کی خیر خواہی (یعنی اچھا چاہنا)، ہر وقت اُمورِ جائز میں  اس کی رِضا کا طالِب رہنا، اسے اپنا مولیٰ جاننا، نام لے کر نہ پکارنا، کسی سے اس کی بے جا شِکایَت نہ کرنا، اور خدا عَزَّوَجَلَّ  توفیق دے تو بجا (یعنی دُرُست شِکایَت) سے بھی اِحتِراز کرنا (یعنی بچنا)، نہ بے اس کی اِجازت کے آٹھویں  دن سے پہلے والِدَین یا سال بھر سے پہلے اور مَحارِم کے یہاں  جانا، وہ ناراض ہو تو اس کی اِنتِہائی خوشامد کر کے اسے منانا (کہ) اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں  رکھ کر کہنا کہ یہ میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں  ہے یہاں  تک کہ تم راضی ہو یعنی میں  تمہاری مملوکہ ہوں  جو چاہو کرو مگر راضی ہو جاؤ۔ (ایضاً، ص۳۷۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد