{1}…حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے مروی ہے، رسولُ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان مرد عورت مومنہ کو مبغوض نہ رکھے اگر اس کی ایک عادت بُری معلوم ہوتی ہے دوسری پسند ہو گی۔‘‘(صَحِیْح مُسْلِم،کتاب الرضاع،باب الوصیۃ بالنساء، ص۵۵۶ الحدیث:۱۴۶۹)
یعنی تمام عادتیں خراب نہیں ہوں گی جب کہ اچھی بُری ہر قسم کی باتیں ہوں گی تو مرد کو یہ نہ چاہئے کہ خراب ہی عادت کو دیکھتا رہے بلکہ بُری عادت سے چشم پوشی کرے اور اچھی عادت کی طرف نظر کرے۔
{2}…حضور نبیِّ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تم میں اچھے وہ لوگ ہیں جو عورتوں سے اچھی طرح پیش آئیں ۔
(سُنَن اِبْنِ مَاجَۃ، کتاب النکاح، باب حسن معاشرۃ النساء، ص۳۱۶، الحدیث:۱۹۷۸)
{3}…ایک روایت میں ہے: ’’عورت کو غلام کی طرح مارنے کا قصد کرتا ہے (یعنی ایسا نہ کرے)کہ شاید دوسرے وقت اسے اپنا ہم خواب کرے۔‘‘
(صَحِیْحُ الْبُخَارِی، کتاب التفسیر، سورۃ والشمس وضحٰھا،ص۱۲۷۶، الحدیث:۴۹۴۲)
یعنی زوجِیَّت کے تعلُّقات اس قسم کے ہیں کہ ہر ایک کو دوسرے کی حاجت اور باہم ایسے مَراسِم کہ ان کو چھوڑنا دُشوار ہے لہٰذا جوان باتوں کا خیال کرے گا مارنے کا ہرگز قصد نہ کرے گا۔