{7}…سیِّدِعالَم ،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شادی شدہ عورت (یعنی حضرت سیِّدُنا حصین بن محصن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پھوپھی) سے دریافت فرمایا: ’’تیر ااپنے شوہر سے کیسا برتاؤ ہے؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’میں نے اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں کی لیکن اب میں اس سے عاجز آگئی ہوں ۔‘‘تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’غور کرو!تم کیسے اس سے عاجز آگئی ہو حالانکہ وہ تو تیری جنت اور دوزخ ہے۔‘‘
(مسند احمد بن حنبل،مسند القبائل، حدیث عمۃ حصین بن محصن، ج۱۱، ص۲۶۷، الحدیث:۲۸۱۱۴)
{8}…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے رحمت ِ عالم ،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی: ’’عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟‘‘ تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ شوہر کا۔‘‘ پھر میں نے عرض کی: ’’مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اس کی ماں کا۔‘‘
(المستدرک علی الصحیحین،کتا ب البر والصلۃ، باب اعظم الناس حقا علی الرجل امہ، ج۵ ،ص۲۴۴، الحدیث:۷۴۱۸)
بیوی کے حُقُوق کے متعلِّق چند اَحادیثِ مبارَکہ
مردوں کو بھی عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہئے کیونکہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اس لئے اس کے ٹیڑھے پن سے ہی فائدہ اٹھانا چاہئے۔