Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
286 - 470
رہتا ہے۔ (صَحِیْح مُسْلِم،کتاب النکاح،باب تحریم  امتناعھا من فراش زوجھا، ص۵۳۹ ،الحدیث:۱۴۳۶)
  {4 }…حضرتِ سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ حضورِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں  ایذا دیتی ہے تو حُورِعین کہتی ہیں  خدا عَزَّوَجَلَّ تجھے غارت کرے، اِسے ایذا نہ دے، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے ،عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔‘‘(سُنَنُ التِّرْمِذِی، کتاب الرضاع،باب ماجاء فی کراھیۃ الدخول۔۔۔الخ، ص۳۰۵، الحدیث:۱۱۷۴، ملخصاً)
{5}…حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے:’’جو عورت اس حال میں  مری کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا تو وہ جنّت میں  داخل ہو گی۔‘‘ (سنن ابن ماجہ،کتاب النکاح،باب حق الزوج علی المرأۃ،ص۲۹۷،الحدیث:۱۸۵۴)
{6}…خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جب عورت پانچ وقت نماز پڑھے،ماہ رمضان کے روزے رکھے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرے تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گی داخل ہو جائے گی۔‘‘ 
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب النکاح، باب معاشرۃ الزوجین، ذکر ایجاب الجنۃ للمرأۃ اذا طاعت زوجھا۔۔۔الخ، ص۱۱۲۷، الحدیث:۴۱۶۳)