Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
283 - 470
کیجئے، غصّہ کرکے یا زبان درازی کر کے گھر سے رُوٹھ کر آ جانے کی صورت میں  آپ پر ’’مَیکے‘‘ کے دروازے بند ہیں ۔
{۶}…ہاں  !  بغیر روٹھے شوہر کی اجازت کی صورت میں  جب چاہیں  میکے آ سکتی ہیں ۔
{۷}…اپنے میکے کی کوتاہیاں  شوہر کو بتا کر غیبت کے گناہِ کبیرہ میں  نہ خود مبتلا ہوں  نہ اپنے شوہر کو ’’سُننے‘‘کے گناہِ کبیرہ میں  ملوَّث کریں ۔
{۸}…اپنی’’بے عملی‘‘یا ’’لا علمی‘‘کو ڈھانپنے کے لئے اِس طرح کہہ دینا کہ ’’مجھے تو  والِدَین نے یہ نہیں  سکھایا‘‘ سخت حماقت ہے۔
{۹}…بہارِ شریعت حصّہ7 سے ’’نان نفقہ کا بیان‘‘، ’’زوجین کے حقوق‘‘ وغیرہ کا مطالَعہ کر لیجئے۔
{۱۰}…اپنے لئے کسی قسم کا ’’سُوال‘‘ اپنے شوہر سے کر کے ان پر بوجھ مت بننا۔ہاں  ! اگر وہ مقرَّر کر دہ حقوق ادا نہ کریں  تو مانگ سکتی ہیں ۔
{۱۱}…مِہمان کی خدمت سعاد ت سمجھ کر کرنا، اس کے اَخراجات کے معاملے میں  شوہر پر بے جا بوجھ مت ڈالنا۔اپنے والد (یعنی سگ مدینہ) سے طلب کر لینا۔