گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنانے اور آخِرت سنوارنے کے لئے’’عطّار‘‘ کی طرف سے’’بنتِ عطّار‘‘ کیلئے 12 مدَنی پھول
{۱}…شوہر کی طرف سے ملنے والا ہر حُکم جو خلافِ شرع نہ ہو، بجا لانا ضَروری ہے۔
{۲}…اپنے شوہر اور ساس کا کھڑے ہو کر استقبال کیجئے اور کھڑے ہو کر ہی رخصت بھی کیجئے۔
{۳}…دن میں کم از کم ایک بار(ممکن ہو تو)ساس کی دست بوسی کیجئے۔
{۴}…اپنی ساس اور سُسر کا والدین کی طرح اِکرام کیجئے ۔ان کی آواز کے سامنے اپنی آواز پست رکھئے۔ان کے اور اپنے شوہر کے سامنے ’’جی جناب‘‘ سے بات کیجئے۔
{۵}…شوہر ضَرورتاً سزا دینے کا مجاز ہے۔(1) ایسا ہو تو صبرو تحمُّلکا مظاہرہ
________________________________
1 - … …مُفَسِّرِ شہیر، حکیم ُ الا ُمَّت حضرتِ مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی سُوْرَۃُ النِّسَآء کی آیت نمبر 34 کے تحت لکھتے ہیں : ربّ تعالیٰ نے یہاں ان کی (یعنی بیویوں کی) اِصلاح کی تین صورتیں بیان فرمائیں : (1)…نصیحت کرنا (2)…بائیکاٹ کرنا (3)…مارنا۔ (مزید لکھتے ہیں :) نافرمانی پر خاوند مار سکتا ہے مگر اِصلاح کی مار مارے نہ کہ ایذاء (یعنی تکلیف دینے) کی جیسے شاگرد کو اُستاد یا اولاد کو ماں باپ اِصلاح کے لئے مارتے ہیں ۔ بلاقصور بیوی کو مارنا سخت ممنوع ہے جس کی پکڑ ربّ (عزوجل) کے ہاں ضرور ہو گی۔ (تفسیرِ نعیمی،پ۵، النساء تحت الایہ۳۴، ج۵، ص۷۰، ملتقطاً)......