فائدہ دنیا، قبر، حشر ہر جگہ پاؤ گی، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں خادم کیوں نہ عطا فرمایا۔
شب کو آئے مصطفٰے زہرا کے گھر اور کہا دُختر سے اے جانِ پِدَر
ہیں یہ خادم ان یتیموں کے لیے باپ جن کے جنگ میں مارے گئے
تم پہ سایہ ہے رسولُ اﷲ کا آسرا رکھ فقط اللہ کا
مفتی صاحب حدیثِ مبارَک کہ اس حصّہ جب تم اپنے بستر لو تو 33 بار سُبْحٰنَ اﷲ اور 33 بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور34 بار اللہُ اَکْبَر پڑھ لویہ تمہارے لئے خادِم سے بہتر ہے۔ کے تحت فرماتے ہیں : اس کا نام تَسْبِیْحِ فاطمہ ہے جو تمام سلسلوں میں خصوصاً سلسلہ قادریہ میں بَہُت معمول ہے، ا س تسبیح کے لئے عام تسبیحوں میں ، ہر 33دانہ پر چھوٹا امام پڑا ہوتا ہے۔(مِراٰۃُ المَناجِیْح، کتاب الدعوات، باب مایقول عند الصباح…الخ، ج۴، ص۸)
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ مہاجر فقرارسولُ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کر بولے کہ مالدار بڑے درجے اور د ائمی نعمت لے گئے، فرمایا: یہ کیسے ؟ عرض کیا: جیسے ہم نمازیں پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں ، جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں جبکہ وہ خیرات کرتے ہیں ہم نہیں کرتے، وہ غلام آزاد کرتے ہیں ہم نہیں کرتے۔ توحضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ چیز نہ سکھاؤں