پر نہ تھے دولت کدہ میں شاہِ دیں
والدہ سے عرْض کر کے آ گئیں
خود حضرتِ سیِّدُنا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے حضرتِ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو بتایا تھا کہ آج قیدی غلام حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاں آئے ہیں ، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غلام بانٹ رہے ہیں ایک لونڈی تم بھی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مانگ لو جو گھر کا کام کاج کرے۔
گھر میں جب آئے حبیبِ کبریا والدہ نے ماجرا سارا کہا
فاطمہ چھالے دکھانے آئی تھیں گھر کی تکلیفیں سنانے آئی تھیں
ایک لونڈی آپ اگر ان کو بھی دیں چکی اور چولہے کے دُکھ سے وہ بچیں
حضورِ اَنوَر، شافِعِ محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نہ تو حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو کچھ جواب دیا، نہ دن میں حضرتِ سیِّدَہ فاطِمۃُ الزَّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں تشریف لائے رات کو سوتے وقت تشریف لائے تو بسترِ فاطمۃُالزَّہراء پر اس طرح تشریف فرما ہوئے کہ ایک قدَم حضرتِ سیِّدَہ فاطمۃُ الزَّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پر تھا دوسرا جنابِ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکے سینہ پُرانوار پر، اس سینہ کے قربان جو قدَمِ رسول چومے۔ مفتی صاحب حدیثِ مبارَک کہ اس حصّہ’’میں تمہیں تمہارے سوال سے بہتر چیز نہ بتادوں ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : یعنی لونڈی خادم کا فائدہ تم کو صرف دُنیا میں پہنچے گا مگر اس دعا کا