Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
276 - 470
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے درمیان بیٹھ گئے۔ حتّٰی کہ میں  نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدَم کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی، فرمایا: میں  تمہیں  تمہارے سوال سے بہتر چیزنہ بتا دوں؟جب تم اپنے بستر لو تو، 33 بار سُبْحٰنَ اللہ ،33 باراَلْحَمْدُ لِلّٰہ  اور  34 بار اللہُ اَکْبَر پڑھ لو یہ تمہارے لئے خادِم سے بہتر ہے۔ (مِشْکٰوۃُ الْمَصَابِیْح،کتاب الدعوات،باب مایقول عند الصباح والمساء والمنام، ج۱، ص۴۴۶، الحدیث:۲۳۸۷)
	شارِحِ مشکوٰۃ، حکیم ُالا ُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی ’’مراٰۃُ المناجیح‘‘ جلد4 صفْحہ7 پر اِس حدیثِ پاک کی شرح میں  فرماتے ہیں  : حضرتِ سیِّدَہ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سب سے چھوٹی پیاری چہیتی صاحبزادی تھیں ، شادی سے پہلے کام کاج نہ کیا تھا۔ حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکے ہاں  آکر تمام کام کرنے پڑے، کام سے کپڑے کالے اور چکی سے ہاتھوں  میں  چھالے پڑ گئے تھے جو پھوٹ کر زخم بن گئے تھے۔
	(جب حضرت سیدتنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہَا   حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں  حاضر ہوئیں  ) اس دن حضورِ اَنوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قیام حضرتِ اُمُّ المؤمنین عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر تھا، اس لئے خاتونِ جنّت انہیں  کے گھر تشریف لائیں  ، مگر اِتِّفاقاً حضورِ اَنوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم باہر تھے دولت خانے میں  نہ تھے اس لئے والدۂ ماجدہ سے عرض کر کے واپس ہو گئیں ۔