Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
272 - 470
بات بات پر غصّے ہو جانے، کھانے میں  عیب نکالنے، چھوٹے بھائی بہنوں  کو جھاڑنے، مارنے، گھر کے بڑوں  سے اُلجھنے، بحثیں  کرتے رہنے کی اگر آپ کی عادتیں  ہوں  تو اپنا رویّہ یکسر تبدیل کر دیجئے، ہر ایک سے معافی تلافی کر لیجئے۔
(۷)…گھر میں  اور باہر ہرجگہ آپ سنجیدہ ہو جائیں  گے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ گھر کے اندر (اور باہر) بھی ضرور اس کی برکتیں  ظاہر ہوں  گی۔
(۸)…ماں  بلکہ بچّوں  کی امّی ہو تو اسے نیز گھر (اور باہر) کے ایک دن کے بچّے کو بھی ’’آپ ‘‘ کہہ کر ہی مخاطب ہوں ۔
(۹)…اپنے محلِّے کی مسجد میں  عشاء کی جماعت کے وقت سے لے کر دو گھنٹے کے اندر اندر سو جائیے۔ کاش! تہجُّد میں  آنکھ کھل جائے۔ ورنہ کم از کم نمازِ فجر تو بآسانی (مسجد کی پہلی صف میں  باجماعت) میسَّر آئے اور پھر کام کاج میں  بھی سُستی نہ ہو۔
(۱۰)…گھر کے افراد میں  اگر نمازوں  کی سستی، بے پردگی، فلموں  ڈراموں  اور گانوں  باجوں  کا سلسلہ ہو اور آپ اگر سرپرست نہیں  ہیں  ، نیز ظنِّ غالب ہے کہ آپ کی نہیں  سنی جائے گی تو بار بار ٹوکا ٹوک کے بجائے سب کو نرمی کے ساتھ مکتبۃ المدینہ سے جاری شدہ سنّتوں  بھرے بیانات کی آڈیو کیسٹیں  سنائیے، وڈیو سی ڈیز دکھایئے، مدَنی چینل دکھایئے  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ! ’’مدَنی نتائج ‘‘ برآمد ہوں  گے۔
(۱۱)…گھر میں  کتنی ہی ڈانٹ بلکہ مار بھی پڑے صبرصبراور صبر کیجئے۔ اگر آپ زبان چلائیں  گے تو’’مدَنی ماحول ‘‘بننے کی کوئی اُمّید نہیں  بلکہ مزید بگاڑ پیدا ہو