Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
27 - 470
آنے پائے، خاتونِ جنّت نے اس پر عمل کر کے دکھا دیا، رونا صبْر کے خلاف نہیں  ، نوحہ، پیٹنا وغیرہ صبْر کے خلاف ہے یہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کبھی نہیں  کیا۔
{9}…تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہزادی کو  جنّتی لوگوں  کی بیویوں  یا مومنوں  کی بیویوں  کی سردار ہونے کی بشارت دی ۔
{10}…حضرتِ سیِّدُنا امام مالِک بن انَس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  : طہارتِ نفْس اور شرفِ نسب میں  خاتونِ جنّت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے برابر کوئی نہیں  ہو سکتا۔(مراٰۃالمناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب الفضائل، باب مناقب اھل بیت النبی،ج ۸،ص۴۵۳ تا ۴۵۵)
	ایک اور رِوایت میں  ہے: اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ، طیِّبہ، طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں  : رسولِ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہزادی خاتونِ جنّت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو بلایا اور کان میں  کوئی بات فرمائی وہ بات سن کر خاتونِ جنّت رونے لگیں  ، آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر سرگوشی کی (یعنی کان میں  کوئی بات فرمائی) تو خاتونِ جنّت ہنسنے لگیں  ، حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ، طیِّبہ، طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں  : میں  نے خاتونِ جنّت سے کہا: آپ کے بابا جان، رحمتِ عالَمِیّان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کے کان میں  کیا فرمایا جو آپ روئیں