رسولُ اللہ کی جیتی جاگتی تصویر کو دیکھا
کیا نظارہ جن آنکھوں نے تفسیرِ نُبُوّت کا
(دیوانِ سالِک از حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{5}…حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب خاتونِ جنّت فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو آتا دیکھتے تو خوشی سے کھڑے ہو جاتے اور اپنی جگہ بٹھا لیتے۔
{6}…جب خاتونِ جنّت فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بارگاہِ رِسالت میں حاضِر ہوئیں تو تمام اُمَّہاتُ المومِنین موجود تھیں مگر شاہِ بحر وبر، رسولِ ا نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے راز کی بات صرف اپنی لاڈلی شہزادی سے کی۔
{7}…ماہِ رَمَضان میں قراٰن کا دَور کرنا سنّتِ رسولی بھی ہے اور سنّتِ جبریلی بھی (قراٰنِ پاک کا دَور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک پڑھے اور دوسرا سنے، پھر دوسرا پڑھے اور پہلا سنے، معلوم ہوا حبیبِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے وِصال مُبارَک کا پہلے سے ہی علم تھا کہ اگلے رَمَضان سے پہلے ہی ہماری وفاتِ ظاہِری ہو جائے گی)۔
{8}…اے فاطمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)! جیسے تم ہماری حَیات شریف میں طیِّبہ، طاہِرہ، مُتَّقِیَّہ، صابِرہ رہی ہو ایسے ہی ہماری وفات کے بعد بھی رہنا، تمہارے پائے اِستِقلال (اِس۔تِق۔لَال یعنی مستقل مزاجی) میں جُنْبِش (جُم۔بِش یعنی حرکت) نہ