ہو) پر بلااجازتِ شَرْعی ظاہر نہ ہو بلکہ اگر لباس ایسا مَہِین یعنی پتلا ہے جس سے بدن کی رنگت جَھلکے یا ایسا چُست ہے کہ کسی عُضْو کی ہَیْئَتْ(یعنی شکل وصورت یا اُبھار وغیرہ) ظاہِر ہو یا دوپٹّہ اتنا باریک ہے کہ بالوں کی سیاہی چمکے یہ بھی بے پَردَگی ہے۔ میرے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہلسنّت، ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیٔ سنّت، ماحِیِٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعِثِ خَیر وبَرَکتحضرتِ علامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :جو وضْعِ لباس(یعنی لباس کی بناوٹ)وطریقۂ پَوشِش(یعنی پہننے کا انداز) اب عورات میں رائج ہے کہ کپڑے باریک جن میں سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بالوں یا گلے یا بازو یا کلائی یاپیٹ یا پِنڈلی کا کوئی حصّہ کُھلا ہو یوں توسوا خاص مَحارِم کے جن سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے کسی کے سامنے ہونا سخت حرامِ قَطْعی ہے۔(فتاوٰی رضویہ،ج۲۲، ص۲۱۷)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جھنَّم میں عورَتوں کی کثرت
آہ! عورَتوں میں بے پردَگی اور گناہوں کی کثرت ہونا انتِہائی تشویشناک ہے، خدا کی قسم! جہنَّم کا عذاب برداشت نہیں ہو سکے گا۔ ’’صحیح مسلم‘‘ میں ہے،حُضُور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ عبرت بُنیادہے:میں