عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ، اِطاعت تو صرف نیکی کے کاموں میں ہے۔‘‘
(صَحِیْح مُسْلِم،کتاب الامارہ،باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر۔۔۔الخ، ص۷۳۷، الحدیث:۱۸۴۰)
اِس حدیثِ پاک میں ارشاد فرمودہ لفظ ’’مَعروف‘‘ کی تعریف بیان کرتے ہوئے مُفَسّرِشہیر، حکیم ُ الْا ُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں ، ’’معروف وہ کام ہے جسے شریعت مَنْع نہ کرے، معصِیَت وہ کام ہے جسے شریعت مَنْع فرما دے۔‘‘
(مِراٰۃُ المَناجِیْح شَرْح مِشْکٰوۃُ الْمَصَابِیْح،کتاب الامارۃ والقضاء ،ج۵، ص۳۴۰)
اگر آپ کا گھر سے نکلنا ضروری ہو تو شَرعی اجازت کی صُورَت میں گھر سے نکلتے وقت اسلامی بہن غیر جاذِبِ نظر کپڑے کا ڈِھیلا ڈھالا مدَنی بُرقَع اَوڑھے، ہاتھوں میں دستانے اور پاؤں میں جُرابیں پہنے۔ مگر دستانوں اور جُرابوں کا کپڑا اتنا باریک نہ ہو کہ کھال کی رنگت جھلکے۔ جہاں کہیں غیر مردوں کی نظر پڑنے کا اِمکان ہو وہاں چِہرے سے نِقاب نہ اُٹھائے مَثَلاً اپنے یاکسی کے گھر کی سیڑھی اور گلی مَحَلّہ وغیرہ۔ نیچے کی طرف سے بھی اِس طرح بُرقع نہ اُٹھائے کہ بدن کے رنگ برنگے کپڑوں پر غیر مردوں کی نظر پڑے۔ واضح رہے کہ عورت کے سر سے لے کر پاؤں کے گِٹّوں کے نیچے تک جسم کا کوئی حصّہ بھی مَثَلاً سر کے بال یا بازو یا کلائی یاگلا یا پیٹ یا پنڈلی وغیرہ اجنبی مرد (یعنی جسں سے شادی ہمیشہ کیلئے حرام نہ