کرنے والی ہوئی تو گھر کے مَردوں کا بدنگاہیوں اور جہنَّم میں لے جانے والی حَرَکتوں سے بچنا سخت دشوار ہو گابلکہ مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ گھر کی پردہ نشین خواتین کے اَخلاق بھی تباہ کر دے گی۔ غیر عورت کے ساتھ مرد کی خفیف یعنی معمولی سی تنہائی بھی حرام ہے اور گھر میں رہنے والے مرد کا آج کل اس سے بچنا تقریباً ناممکن ہو تا ہے۔ لہٰذا گھر میں کام والی نہ رکھنے ہی میں عافیّت ہے۔
بعض کام کرنے والیاں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ گھروں میں چوریاں کرتی ہیں ، موبائل لے جاتی ہیں ، گھروں میں ناچاقیوں کا سبب بنتی ہیں ، بے پردگی کا سبب بنتی ہیں ، بسا اوقات گھروں میں ڈکیتیوں کا باعث بنتی ہیں ، گھر والی کو نشہ آوَر چیز پلا کر سونے کے زیورات لے اُڑتی ہیں ، اگرچہ ساری ایسی نہیں ہوتیں ، مگر ایسی بھی ہوتی ہیں ، تو کام والیوں یا کام والوں سے بچنے میں ہی عافیّت ہے۔
خالق کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں
امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ الْمُرتَضٰی، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے ، سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ، قرارِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہ، باعِثِ نُزُولِ سکینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ باقرینہ ہے، ’’لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعصِیَۃِ اللہِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعرُوْفِ‘‘یعنی اللہ