چُنانچِہدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مَطْبُوعہ کتاب ’’پردے کے بارے میں سوال جواب‘‘(1)صفْحہ161 پر شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فتاوی رضویہ کے حوالے سے فرماتے ہیں :
سوال: گھر میں ’’کام والی‘‘ رکھ سکتے ہیں ؟
جواب: رکھ تو سکتے ہیں مگر 5 شرائط کے ساتھ (1)…کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ سِتْر کا کوئی حصّہ چمکے۔ (2)…کپڑے تنگ وچُست نہ ہوں جو بدن کی ہیئات (یعنی سینے کا اُبھار یا پنڈلی وغیرہ کی گولائی وغیرہ) ظاہِر کریں ۔ (3)…بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصّہ ظاہِر نہ ہوتا ہو۔ (4)…کبھی نامَحْرَم کے ساتھ خَفیف (یعنی معمولی سی) دیر کے لئے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو۔ (5)…اُس کے وہاں رہنے یا باہَر آنے جانے میں کوئی مَظِنَّۂ فِتنہ (فتنے کا گمان) نہ ہو۔ یہ پانچوں شرطیں اگر جَمْع ہیں توحَرَج نہیں ۔(فتاوٰی رضویہ، ج۲۲، ص۲۴۸)
مگر ان پانچ شرائط پر عمل فی زمانہ مشکِل ترین ہے۔ اگر بے پردَگی
________________________________
1 - … کتاب ’’پردے کے بارے میں سوال جواب‘‘ پردے کے متعلق بہترین کتاب ہے، اپنے موضوع پر جامع اور بہت عام فہم ہے، ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن کے لئے یکساں مفید ہے، اپنے شہر کے مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃً حاصل کیجئے یا پھر دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹwww. dawateislami.net سے پڑھ لیجئے یا پرنٹ آؤٹ کر لیجئے۔