مطالبہ کیا تھا لیکن حساب کے خوف سے میں نے اسے ناپسند جانا، حالانکہ میں ان دنوں مالدار تھا۔(حلیۃ الاولیاء،ابو الدردائ،ج۱، ص۲۷۴، رقم۷۰۲)
ذرا ہم اپنا محاسَبہ بھی کر لیں کہ ہماری کیفِیَّت کیا ہے اور یاد رکھئے کہ خاتونِ جنَّت حضرتِ سیِّدَہ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا گھر کا کام خود کرنا شہنشاہِ نُبُوَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مرضی و مَنْشا کے مطابق تھا یقینا جو کام شاہِ خیرُ الانام، محبوبِ ربُّ الانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پسند فرمائیں وہ ربّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں بھی پسندیدہ اور محبوب ہے۔ اب ذرا غور فرمائیے کہ جس کام میں خدا ومصطفٰے عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رضا و خوشنودی ہو اُس سے جی چرانا، جان چُھڑانا، سستی کرنا کیسا؟ گھر میں کام کاج کی برکت سے بھائی بہنوں اور ماں باپ کی منظورِ نظر بن جائیں گی۔ شادی شدہ ہیں تو شوہر، نند اور ساس کے دلوں میں جگہ بن جائے گی۔ اگر پہلے سے ہی کام کرنے کی عادت پڑے گی تو شادی کے بعد گھر سنبھالنا آسان ہو گا اور گھر امن کا گہوارہ بن جائے گا، کئی نادان والدین اپنی بچیوں کو کام نہیں کرنے دیتے نتیجتاً انہیں کھانا پکانے، برتن دھونے، کپڑے دھونے، کپڑے سینے کی تربِیَّت نہیں ہوتی اور شادی کے بعد آزمائش ہوتی ہے۔
گھر میں کام والی رکھ سکتے ہیں یا نہیں ؟
اب یہ بھی مُلاحَظہ فرما لیجئے کہ گھر میں کام والی رکھ سکتے ہیں یا نہیں