Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
263 - 470
کیا کریں  گی۔‘‘(اَلْاِصَابَۃُ فِیْ تَمْیِیْزِ الصَّحَابَۃِ، ج۸، ص۲۹۷)
	حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی سیرت کا مطالَعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا خانہ داری کے کاموں  کی اَنجام دہی کے لئے کبھی کسی رشتہ دار یا ہمسائی کو اپنی مدد کے لئے نہیں  بلاتی تھیں ۔ نہ کام کی کثرت اور نہ کسی قسم کی محنت مشقت سے گھبراتی تھیں ۔ ساری عمر شوہر کے سامنے حرفِ شکایت زبان پر نہ لائیں  اور نہ ان سے کسی چیز کی فرمائش کی۔ کھانے کا اُصول یہ تھا کہ چاہے خود فاقے سے ہوں  جب تک شوہر اور بچوں  کو نہ کھلالیتیں  خود ایک لقمہ بھی منہ میں  نہ ڈالتیں ۔
	 پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ حیدرِ کرَّار، شیرِ خدا حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور رسولُ اللہ کی شہزادی ،جنّتی عورتوں  کی سردارحضرت ِسیِّدَتُنا فاطِمۃُالزَّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے گھر میں  کام کے لئے خادم نہیں  رکھا بلکہ اپنے گھر کے کام خود کیا کرتی تھیں ۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں  آئے کہ وہ اور دَور تھا اب اور زمانہ ہے۔ تو سنئے کہ اس دَور کی عظیم روحانی شخصِیَّت شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت حضرتِ علَّامہ مولانا محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے گھر میں  کبھی کوئی کام کرنے والی نہیں  رکھی گئی، اس میں  ہر اسلامی بہن ،بالخصوص امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی مرید، طالب یا