Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
262 - 470
ازدواجی زندگی
	جگر گوشۂ رسول، حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بتول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نکاح کے بعد جب حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ، شیرِ خدا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ کے دولت خانہ میں  تشریف لائیں  تو گھر کے تمام کاموں  کی ذمّہ داری آپ پر آ پڑی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اس ذمّہ داری کو بڑے اَحسن انداز میں  نبھایا اور ہر طرح کے حالات میں  اپنے عظیم ُ المرتبت شوہر کا ساتھ دیا ، چُنانچِہ
گھریلو کاموں  کی تقسیم
	حضرتِ سیِّدُنا ضَمْرَہ بن حبیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمورِ خانہ داری (مثلاً چکی پیسنے، جھاڑو دینے، کھانا پکانے کے کام وغیرہ)  اپنی شہزادی حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُالزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سپُرد فرمائے اور گھر سے باہر کے کام (مثلاً بازار سے سودا سلف لانا، اُونٹ کوپانی پلاناوغیرہ) حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ذمّہ لگا دیئے۔(اَلْمُصَنَّف لِاِبْنِ اَبِیْ شَیْبَۃ، کتاب الزھد،کلام علی بن ابی طالب، ج۸، ص۱۵۷، الحدیث:۱۴)
	ایک روایت میں  ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ نے اپنی والدۂ ماجدہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بنتِ اسد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں  عرض کی، ’’فاطمۃُ الزَّہراء (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)آپ کی خدمت اور گھر کے کام کاج