Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
256 - 470
اور تم دونوں  کو اس کی حفاظت میں  دیتا ہوں ۔ اس نے تم سے ناپاکی دور کردی اور تمہیں  پاک کرکے خوب ستھر ا کر دیا۔‘‘
	حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں  : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی قسم! اس حکمِ مصطفی کے بعد میں  نے نہ تو کبھی حضرتِ فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  پر غصّہ کیا اور نہ ہی کسی بات پرانہیں  ناپسند کیا یہاں  تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے ان کو اپنے پاس بلا لیا،بلکہ وہ بھی کبھی مجھ سے ناراض نہ ہوئیں  اور نہ ہی کسی بات میں  میری نافرمانی کی اور جب بھی میں  ان کو دیکھتا تووہ میرے دکھ درد دُور کرتی دکھائی دیتیں ۔‘‘ 
(اَلرَّوْضُ الْفَائِق،المجلس الثامن والاربعون فی زواج علی بفاطمۃ…الخ، ص۲۷۸، ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! جس سے اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ  وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ محبت کریں  اس کو اَذِیَّت و تکلیف سے بچانا اور ہر دم اس کو خوش رکھنے کی کوشش کرنا ہر صحیحُ العقیدہ کامِل مسلمان اپنے اوپرلازم گردانتا (یعنی لازم مانتا)ہے، جیسے حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے نصیحت ِ مصطفٰے پر کاربند رہتے ہوئے اپنے اوپر لازِم کر لیا تھا کہ بنتِ رسول حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  پر غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار نہیں  کرنا۔ اور اس خوشگوار ماحول کو مزید تقویت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی