Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
255 - 470
تَعَالٰی عَنْہَا اور ان کے بیٹے حضرتِ سیِّدُنا زید بن عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کا انتقال ایک ہی ساعت میں  ہوا۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ،  القسم الرابع، اُمِّ کلثوم بنت علی، ج۸، ص۳۶)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے سیِّدَینا علی وفاطمہ کے حُسْنِ معاشرت پر مشتمل ایک روایت پیش کی جاتی ہے:
علی وفاطمہ کبھی ناراض نہ ہوئے
	حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں  : ’’ ایک اِنتِہائی ٹھنڈی اورشدید سرد صبح رسولِ خدا، محمدِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے ہاں  تشریف لائے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں  دعائے خیر سے نوازا اور پھر حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے تنہائی میں  پوچھا : ’’اے میری بیٹی! تو نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟‘‘ جواب دیا: ’’وہ بہترین شوہر ہیں ۔‘‘ پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضر تِ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکوبلاکر  اِرشاد فرمایا: ’’اپنی زوجہ سے نرمی سے پیش آنا، بے شک فاطمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو چیز اسے دُکھ دے گی مجھے بھی دُکھ دے گی اور جو اسے خوش کرے گی مجھے بھی خوش کرے گی، میں  تم دونوں  کو اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے سپرد کرتا ہوں ،