اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چشمانِ مُبارَک نَم ناک (یعنی آنسوؤں سے تربتر) ہو گئیں اور دُعا فرمائی: ’’اے اسماء (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)! اللہ عَزَّوَجَلَّ تیری دُنْیا وآخِرت کی تمام حاجات پوری فرمائے۔‘‘
(اَلرَّوْضُ الْفَائِق،،الثامن واالاربعون فی زواج علی بفاطمۃ۔۔۔الخ، ص۲۷۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ نے جس طرح خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو عظَمت ورفعت عطا فرمائی اسی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی اولاد کو بھی عظیم شانوں سے نوازا۔ اہلِ بیتِ پاک کی عظَمت تو دیکھئے کہ ایک طرف ماں جنّتی عورتوں کی سردار ہے تود وسری طرف بیٹے جنّتی جوانوں کے سردار۔ آئیے! خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی اولادِ پاک کا ذکرِ خیر بھی مُلاحَظہ فرما لیجئے!
خاتونِ جنّت کی اولادِ پاک
{1}…سیِّدُنا امام حَسَن کی ولادت باسعادت
خاتونِ جنّت کے بڑے شہزادے حضرت سیِّدُنا امام حَسَن مجتبیٰ ہیں ، آپ کا اسمِ گرامی حَسَن، کُنْیَت ابومحمد اور اَلقاب سیِّدِ شبابِ اہلِ الجنّۃ، سبط وریحانِ رسول ہیں ۔ آپ کی ولادت باسعادت ۱۵رَمَضانُ المبارَک ۳ھ میں ہوئی۔