Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
246 - 470
	ان دونوں  مبارک ہستیوں  نے اپنی لذّات کے بستر کو چھوڑ دیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی عبادت میں  مصروف ہو گئے،رات قیام میں  تو دن روزے کی حالت میں  بسر ہوتا حتّٰی کہ تین روز اسی طرح گزر گئے۔پھر وہ دونوں  اپنے بستر پر آرام فرما ہوئے۔چوتھے دن حضرتِ سیِّدُنا جبریلِ امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ بابرکت میں  حاضر ہوئے اور عرض کی: ’’اللہ تعالیٰ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سلام بھیجتا ہے اور ارشاد فرماتاہے کہ علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہٗ) اور فاطمہ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) نے تین دن سے نیند اور بستر کو ترک کر رکھا ہے اور عبادت اور روزوں  میں  مصروف ہیں  ، تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے ارشاد فرماؤ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  تمہاری وجہ سے ملائکہ پرفخر فرما رہا ہے اور یہ کہ تم دونوں  بروزِ قیامت گنہگاروں  کی شفاعت کرو گے۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فوراً ان کے گھر تشریف لائے تو وہاں  حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنتِ عمیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو پایا تو اِستِفسار فرمایا: ’’کس چیز نے تجھے یہاں  ٹھہرایا ہے؟ حالانکہ گھر میں  ایک مرد بھی موجود ہے۔‘‘ عرْض کی: ’’یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں  باپ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قربان! میں  حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی خدمت کے لئے حاضِر ہوئی تھی۔ اس پرآپ صَلَّی