نہیں آتا بھجوا دیتا ہے۔
(پھر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا) اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میرا بیٹا (یعنی حاجی احمد عبید رضا عطاری سَلَّمَہُ الْبَارِی) خود ولیمہ کی سنت ادا کرے گا۔دُھوم دھام سے نہ سہی مگر ولیمہ ہوگا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دعوتِ وَلیمہ
شہزادۂ عطّار مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالی نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی حسبِ خواہش انتہائی سادَگی سے دعوت ِ ولیمہ کا اہتمام فرمایا جس میں صرف دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے تمام اراکین اور تین یا چار دوسرے اسلامی بھائیوں کو مدعو کیا لیکن کھانے کے وقت گھر کے باہر جمع ہونے والے دیگر عقیدت مند اسلامی بھائیوں کوبھی اندربلوالیا گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! ا میرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی ولیمے میں شریک تھے۔ دعوتِ ولیمہ میں دال اور چاول پیش کئے گئے۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بتایاکہ ’’کھانا گھر میں پکایا گیا ہے، دال پانی میں پکائی گئی ہے اور اس میں تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں ڈالا گیا ۔‘‘ مگر کھانے والوں کا کہنا ہے کہ دال چاول حیرت انگیز طور پر انتہائی لذیذ تھے۔(سنت نکاح، قسط۳، ص۳۲ تا ۴۱، ملتقطاً)