یوں ارشاد فرمایا: دُھوم دھام سے ولیمہ کا بھی بہت اِصرار رہا۔ کسی نے آفر بھی کی کہ 200دیگیں بلااجُرت پکا دیں گے ،بس دو لاکھ روپے کا سامان آئے گا۔ میں نے کہا: دو لاکھ روپے تو میرے پاس نہیں ہیں ،مگر میرے لیے دو لاکھ روپے جمع کرنا مشکل بھی نہیں ہے،بس یہی ہوگا کہ جس سے کہوں گا اُس کے دل میں میری جو عزت ہوگی وہ ختم ہوجائے گی ، دو چارسیٹھوں کو فون کردوں گا ، تھوڑی سی خوشامد کرنا پڑے گی جو کہ میرے مزاج میں نہیں ہے، 200 کی جگہ 1200 دیگیں ہوجائیں گی، یوں میرے بیٹے کا ولیمہ تو دھوم دھام سے ہوگااور آپ لوگ بھی خوش ہوجائیں گے مگر مجھے اس کے لئے اپنی خُودداری کا سودا کرنا پڑے گا ۔پھر آپ نے بطورِ ترغیب ایک واقعہ بھی سُنایا؛
ایک پیر صاحب کے ہاں لنگر خانہ چل رہا تھا۔ ایک صاحبِ ثروت مُرید پیسے دینے کی ترکیب کر رہا تھا۔ لنگر خانے کے منتظم نے عرض کی: حضور! اب مہنگائی بڑھ گئی ہے ، بہت دقّت ہو رہی ہے ،اگر آپ اِس لنگر خانے کا خرچہ دینے والے مرید کو اشارہ کردیں گے کہ وہ رقم دُگنی کردے تو اپنا لنگر خانہ ذرا آسانی سے چلے گا۔ پیر صاحب اس پر راضی ہوگئے اور اُس مرید کو فرمایا کہاللہ تعالیٰ نے تجھے بہت دیا ہے،تم ماہانہ چندہ دُگنا کر دو۔ اس مُرید نے سعادت مندی سے جواب دیا :مرشد آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ کچھ عرصے کے بعدلنگر خانے کے منتظم نے پوچھا حضور ! آپ نے رقم میں اضافہ کے لئے کہا یا نہیں ؟پیر صاحب نے فرمایا کہ میں نے اس سے کہہ دیا تھا اور اس نے دوگنا بھی کردیا ہے مگر فرق یہ ہے کہ پہلے بڑی عقیدت سے آ کر پیش کرتا تھا، اب خود