ہال کے بجائے مدینۃُ الاولیاء ملتان شریف میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے تین روزہ سنّتوں بھرے بین َالاقوامی اجتماع میں 18اکتوبر 2003ء کو شبِ اتوار بڑی سادَگی کے ساتھ انجام پائی۔
بَراتی ہیں تَمامی اَہل ِسنّت
عُبیدِ قادِری دولہا بنا
تلاوت کے بعد پُر سوز نعتیں پڑھی گئیں ، رقّت انگیز سماں تھا، خُطبۂ نکاح پڑھ کر امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہی نے نکاح پڑھایاپھرچھوہارے لٹائے گئے جو منچ(اسٹیج) کے قریب موجود مخصوص اسلامی بھائیوں نے لُوٹے۔ نکاح کے بعد چھوہارے لٹانے کے بارے میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ’’حدیث شریف میں لُوٹنے کا حکم ہے اور لٹانے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔ (اَحْکَامِ شریعت، باب ملفوظات اعلٰی حضرت،حصہ دوم ،ص۲۲۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مکان پر سجاوٹ
اس موقع پردیکھنے والے حیرت زدہ تھے کہ دنیائے اَہلسنّت کے امیر،بانیِ دعوتِ اسلامی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے شہزادے کی شادی کے موقع پر گھر پرمروَّجہ سجاوٹ یا برقی قُمقُموں وغیرہ کی کوئی ترکیب ہی نہیں تھی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد