Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
237 - 470
 بازاروں  میں  یہ جلوس نکالا جائے۔ جب یہ برات دلہن کے گھر پہنچے تو دلہن والے اس برات کو کسی قسم کی روٹی یا کھانا ہرگز نہ دیں  کیونکہ حضرتِ زہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے نکاح میں  حضور عَلَیْہِ السَّلام  نے کوئی کھانا نہ دیا غرضیکہ لڑکی والے کے گھر کھانا نہ ہو۔ بلکہ پان یا خالی چائے سے تو اضع کر دی جائے۔ پھر عمدہ طریقہ سے خطبہ نکاح پڑھ کر نکاح ہو جائے۔ اگر نکاح مسجد میں  ہو تو اور بھی اچھا ہے نکاح کا مسجد میں  ہونا مستحب ہے اور اگر لڑکی کے گھر ہو تب بھی کوئی حرج نہیں ۔ نکاح ہوتے ہی باراتی لوگ واپس ہو جائیں  یہ تمام کام عصر سے پہلے ہو جائیں  اور بعد مغر ب کو دلہن کو رخصت کر دیا جائے خواہ رخصت ٹانگہ میں  ہو یا ڈَولی وغیرہ میں ۔ مگر اس پر کسی قسم کا نچھاور اور بکھیر بالکل نہ ہو کہ بکھیر کرنے میں  پیسے گم ہو جاتے ہیں ۔ ہاں  ! نکاح کے وقت خُرمے (یعنی کھجوریں  یاچُھوہارے) لُٹانا سنّت ہے۔ (اِسلامی زندگی، فصل ثانی نکاح اور رخصت کی رسمیں  ، ص۵۴ تا ۵۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہر مُعامَلے میں  میٹھے میٹھے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں  پر عمل کی کوشش فرماتے ہیں  ،چُنانچِہ آپ نے اپنی اولاد کی شادیاں  بھی فضول رسموں  سے