Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
236 - 470
موجود تھا۔ جو ایک ایک جنگ کیلئے نو نو سو اونٹ اور نو نو سو اشرفیاں  حاضر کردیتے تھے۔ لیکن چونکہ منشا (یعنی مقصد) یہ تھا کہ قیامت تک یہ شادی مسلمانوں  کیلئے نمونہ بن جائے۔ اس لئے نہایت سادَگی سے یہ اسلامی رسمیں  ادا کی گئیں ۔
 	لہٰذا مسلمانو! اوّلاً تو اپنی بیاہ بارات سے ساری حرام رسمیں  نکال ڈالو، باجے، آتش بازی، عورتوں  کے گانے، میراثی، ڈوم وغیرہ کے گیت، رنڈیوں  عورتوں  کے ناچ، عورتوں  اور مردوں  کا مَیل جول، پھول پتی کا لُٹانا ایک دم اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا نام لے کر مٹا دو۔ اب رہی فضول خرچی کی رسمیں  ان کو یا تو بند ہی کردو اگر بند نہ کرسکو تو ان کیلئے ایسی حد مقرَّر کر دو جس سے فضول خرچی نہ رہے اور گھر کی بربادی نہ ہو۔ جنہیں  امیر و غریب سب بے تکلُّف پورا کر سکیں ۔ لہٰذا ہماری رائے یہ ہے کہ اس طریقہ سے نکاح کی رسم ادا ہونی چاہئے۔
	دولہا، دلہن نکاح سے پہلے اُبٹن یا خوشبو کا استعمال کریں  مگر مہندی اور تیل لگانے اور ابٹن کی رسم بند کر دی جائے یعنی گانا باجا عورتوں  کا جمع ہونا بند کر دو۔ اب اگر بارات شہر کی شہر میں  ہے تو ظہر کی نماز پڑھ کر بارات کا مجمع دولہا کے گھر جمع ہو اور دلہن والے لوگ دلہن کے گھر جمع ہوں ۔ دلہن کے یہاں  اس وقت نعت خوانی یا وعظ یا درود شریف کی مجلس گرم ہو۔ اُدھر دولہا کو لے کر پیدل یا سوار کر کے اس طرح برات کا جلوس روانہ ہو، آگے آگے عمدہ نعت خوانی ہوتی جاوے، تمام