ناموری کا کوئی ارادہ نہیں لیکن ڈنکے چاردانگِ عالَم(1) بج رہے ہیں ۔ یہ بات بالکل نہیں کہ یہ شادی دھوم دھام سے نہیں ہو سکتی تھی بلکہ اگر سروَرِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود بھی نہیں بلکہ صرف اپنے غلاموں کوہی اِشارہ کردیتے تو اس کی مِثل وہمسری کرنا کسی کے بس کی بات نہ رہتی۔ لیکن والی ٔ اُمّت، محبوبِ ربُّ العزّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سادَگی اور بے تکلُّفی کو سنّت بنایا، تاکہ اُمّت پریشانی اور قرضوں کے بوجھ تلے نہ دبے۔ اسی جانب حکیم ُالامّت مفتی احمدیار خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے بھی توجُّہ د لائی، چُنانچہ
شادی بیاہ کی اسلامی رسمیں
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ170 صفْحات پر مشتمل کتاب ’’اسلامی زندگی‘‘ صفْحہ54 پر حکیم ُ الا ُمَّت مفتی احمدیار خان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی تحریر فرماتے ہیں : سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ اپنی اولاد کے نکاح کیلئے حضرتِ خاتونِ جنّت، شاہزادیٔ اسلام، فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے نکاحِ پاک کو نمونہ بناؤ اور یقین کرو کہ ہماری اولاد ان کے قدمِ پاک پر قربان! اور یہ بھی سمجھ لو کہ اگر حضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مرضی ہوتی کہ میری لخت ِ جگر کی شادی بڑ ی دُھوم دَھام سے ہو اور صحابۂ کِرا م عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے اس کیلئے چندہ وغیرہ کیلئے حکم فرما دیا جاتا تو عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ کا خزانہ
________________________________
1 - … دنیا کی چاروں طرف۔