Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
233 - 470
عقْد کا پیغام حیدر نے دیا	مصطفی نے مرحبا اھلاً کہا
پیر کا دن سترہ ماہِ رجَب		دوسرا سِنِّ ہجرت شاہِ عرب
پھر مدینہ میں  ہوا اعلانِ عام		ظہر کے وقْت آئیں  سارے خاص وعام
اس خبر سے شور برپا ہو گیا		کوچہ و بازار میں  غُل سا مچا
آج ہے مولیٰ کی دُختر کا نِکاح		آج ہے اس نیک اختر کا نِکاح
آج ہے اس پاک وسچی کا نِکاح   	آج ہے بے ماں  کی بچی کا نِکاح
خیر سے جب وقْت آیا ظہر کا		مسجِدِ نبوی میں  مجمع ہو گیا
ایک جانب ہیں  ابوبکر و عمر		اِک طرف عثمان بھی ہیں  جلوہ گر
ہر طرف اَصحاب و انصار ہیں 	 	درمیاں  میں  احمد و مختار ہیں 
سامنے نوشہ علیِّ مرتضٰی	  	 حیدرِ  کرّار  شاہ ِ  لَا فَتٰی
آج گویا عرْش آیا ہے اتر		     یا کہ قُدسی آ گئے ہیں  فرش پر
جمع جب یہ سارا مجمع ہو گیا		سیِّدُ الکونین نے خطبہ پڑھا
جب ہوئے خطبے سے فارِغ مصطفیٰ		عقْد زَہرا کا علی سے کر دیا
چار سو مِثقال چاندی مہر تھا		 وزن جس کا ڈیڑھ سو تولہ ہوا
بعد میں  خُرمے لُٹائے لاکلام		ماسِوا اس کے نہ تھا کوئی طعام
ان کے حق میں  پھر دعائے خیر کی		اور ہر اِک نے مُبارَک باد دی