Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
232 - 470
برَکت سے 700 اَفراد نے وہ حلوہ تناول فرمایا۔‘‘
	اس کے بعدآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ فاطمہ اورحضرتِ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کو اپنے پاس بلایا اورحضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو اپنے دائیں  اور حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   کو اپنے بائیں  طرف بٹھا کر سینے سے لگایا اور دونوں  کی آنکھوں  کے درمیان پیشانی پر بوسہ دیا اور حضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے فرمایا: ’’ اے علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! میں  نے کتنی اچھی زوجہ سے تیرا نِکاح کیا ہے۔‘‘ پھر ان دونوں  کے ساتھ ان کے گھر تک پیدل چلے۔ پھر گھر سے باہر نکل کر دروازے کے کواڑ پکڑے اور یہ دُعا فرمائی: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ   تم دونوں  کو اِتِّفاق واِتِّحاد عطا فرمائے، میں  تمہیں  اللہ عَزَّوَجَلَّ   کے سپرد کرتا ہوں  اور تم دونوں  کو اس کی حفاظت میں  دیتا ہوں ۔‘‘ 
(اَلرَّوْضُ الْفَائِق، المجلس الثانی والاربعون فی زواج علی بفاطمۃ۔۔۔الخ،ص ۲۷۷تا ۲۷۸، ملخصاً)
	شہزادیٔ کونَین، والِدۂ حَسَنَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے نکاح کے متعلِّق مُفسِّرِشہیر، حکیم ُ الا ُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی  عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کا منظوم کلام مُلاحَظہ فرمائیے اور نصیحت کے مدَنی پھول چنئے:
گوشِ دل سے مومنو! سن لو ذرا	ہے یہ قصّہ فاطمہ کے عقْد کا
پندرہ سالہ نبی کی لاڈلی		اور تھی بائیس سال عُمْرِ علی