Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
231 - 470
دعوتِ طعام
	اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے رسول، رسولِ مقبول، بی بی آمنہ کے گلشن کے مہکتے پھول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   کو آراستہ کرنے کا حکم دیا اور حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کے پاس رکھے ہوئے دراہم میں  سے 10 درہم حضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو دیئے اور اِرشاد فرمایا: ’’ان سے کھجور، گھی اور پنیر خرید لو۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ  فرماتے ہیں  : ’’میں  یہ چیزیں  خرید کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں  حاضِر ہو گیا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چمڑے کا ایک دسترخوان منگوایا اور آستینیں  چڑھا کر کھجوروں  کو گھی میں  مسلنے لگے اور پھر پنیر کے ساتھ اس طرح ملایا کہ وہ حلوہ بن گیا پھر اِرشاد فرمایا: ’’اے علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! جسے چاہو بلا لاؤ۔‘‘ میں  مسجد گیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ سے کہا: ’’ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوت قبول کریں ۔‘‘ سب لوگ اُٹھ کر چل دیئے۔ جب میں  نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں  عرْض کی کہ لوگ بَہُت زِیادہ ہیں  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چمڑے کے دسترخوان کو ایک رومال سے ڈھانک دیا اور اِرشاد فرمایا: ’’ دس دس اَفراد کو داخِل کرتے جاؤ۔‘‘ میں  نے ایسا ہی کیا۔ سب صحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ نے کھا نا کھایا لیکن کھانے میں  بالکل کمی نہ ہوئی یہاں  تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی