ہم نے ان سے تذکِرہ کیا تو کہنے لگیں : ’’ذرا اِنتِظار کریں ، ہم عورتیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مُتَعَلِّقبات کرتی ہیں کہ (ان مُعامَلات میں ) مردوں کی نسبت عورتوں کی باتیں زیادہ مؤثِّر ہوتی ہیں ۔‘‘ وہ واپس مڑ کر حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس گئیں اور انہیں اور پھر دوسری ازواجِ مُطہَّرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو ساری بات بتائی تو سب اُمَّہاتُ المؤمِنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ اکٹھی ہو کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے حجرۂ مُبارَکہ میں حاضِر ہوئیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چاروں طرف بیٹھ کر عرْض گزار ہوئیں : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمارے ماں باپ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قربان! ہم ایک اہم مُعامَلے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حاضِر ہوئی ہیں ، وہ یہ کہ آپ کے چچا زاد اور دینی بھائی حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ اپنی بیوی حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی رخصتی چاہتے ہیں ۔‘‘ توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ کو بلا بھیجا۔
حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’میں بارگاہِ رِسالت میں حاضِر ہو کر سر جھکا کر بیٹھ گیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِستِفسار فرمایا: ’’کیا تم اپنی زوجہ کی رخصتی چاہتے ہو؟‘‘ میں نے عرْض کی: ’’جی ہاں ! یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!‘‘ اِرشاد فرمایا: ’’بڑی مَحبت وعزّت سے،اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ! آج رات سے تم اپنی زوجہ کے ساتھ رہا کرو گے۔‘‘