چٹائی، مٹی کے برتن اور کھجور کی چھال بھرا چمڑے کا تکیہ وغیرہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّوَجَلَّ ! جہیز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ اور رخصت کرتے وقت جس طرح سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خاتونِ جنّت فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پر شفقتیں فرمائی تھیں ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ! ان سنّتوں پر بھی عمل کرنے کی کوشش کی تھی۔(سنت نکاح، قسط۳، ص۴۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سیِّدَہ فاطمہ کی رُخصتی
حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ الْکَرِیْم اِرشاد فرماتے ہیں : ’’ جب مہینہ گزر گیاتو میرے بھائی حضرتِ عقیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہٗ میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے: ’’اے میرے بھائی! آج تک میں اتنا خوش نہیں ہوا جتنا یہ سن کر خوش ہوا کہ آپ کی شادی بنتِ رسول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہو گئی ہے، اب اگرآپ ان کو اپنے گھر بھی لے آؤ تو تمہاری ملاقات سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔‘‘ میں نے جواب دیا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں بھی یہی چاہتا ہوں ، لیکن مجھے تاجدارِ حرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے شرم آتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیں ۔‘‘ لہٰذا ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ملاقات کے ارادے سے گھر سے نکلے تو راستے میں ہمیں بارگاہِ رسالت کی خادِمہ حضرت اُمِّ اَیمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ملیں ۔