اور جب حُضُورپُرنور، شافِعِ یومُ النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس تشریف لے جاتے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم کے لئے قیام فرماتیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُبارَک ہاتھوں کو تھام کر بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ بٹھاتیں۔
(سُنَنِ اَبُودَاؤُد، کتاب الادب ،باب ما جاء فی القیام، ص۸۱۲، الحدیث:۵۲۱۷ )
رسولُ اللہ کی جیتی جاگتی تصویر کو دیکھا کیا نظارہ جن آنکھوں نے تفسیرِ نُبُوّت(1) کا
(دیوانِ سالِک از حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سیِّدَہ فاطِمہ روئیں پھر ہنس پڑیں
اُمُّ المؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ، طیِّبہ، طاہِرہ، عابِدہ، زاہِدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : آقا کی شہزادی، خاتونِ جنّت حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سروَرِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ بابرکت میں حاضِر ہوئیں ان کا چلنا ہوبہو(یعنی بالکل) رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُشابِہ تھا، جب محبوبِ ربّ، شہنشاہِ عرب وعجم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کو دیکھا تو ارشاد فرمایا: اے میری بیٹی! مرحبا! پھر ان کوبٹھایا، پھر ان
________________________________
1 - … یعنی سیِّدَہ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا۔