شرحِ کلامِ رضاؔ:
دونوں جہاں دنیا وآخرت خدا کی خوشنودی کے خواہاں ہیں اور ربّ تعالیٰ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خوش رکھنا چاہتا ہے جیسا کہ ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ(۵) (پ۳۰، اَلضُّحٰی:۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا ربّ تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔‘‘
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تصویرِ مصطفٰے
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ، صِدِّیقہ،طیِّبہ، طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال، شکل و شباہَت(رنگ رُوپ) اور بات چیت میں فاطِمہ عفیفہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) سے بڑھ کر کسی کو حُضور نبیِّ اَکرَم (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے مُشابِہ نہیں دیکھا اور جب حضرتِ فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِرہوتیں تو حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے اِستِقْبال کے لئے کھڑے ہو جاتے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاتھ تھام کر اُن کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔
زَہراء جَدوں وی آئیاں کھڑے ہو گئے رسول
اینہوں کہواں شفقت یا پیار فاطِمہ