Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
24 - 470
سے سرگوشی کی (یعنی کان میں  کوئی بات کہی) جس کو سن کر شہزادی بَہُت روئیں ۔ جب محبوبِ ربّ، شہنشاہِ عرب وعجم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی بے قراری دیکھی تو دوبارہ سرگوشی کی جس سے آپ ہنس پڑیں  (اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں  :) جب حُضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے ہو گئے تو میں  نے خاتونِ جنّت سے پوچھا: آپ سے رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیاسرگوشی کی تھی ؟ خاتونِ جنّت نے کہا: میں  رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا راز اِفشا(یعنی ظاہر)  نہیں  کروں  گی، (اُمُّ الْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں  :)  جب اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے (یعنی محبوبِ ربِّ ذُوالجلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وِصال ہو گیا) تو میں  نے کہا: میرا آپ پر جو حق ہے میں  آپ کو اس حق کی قسم دے کر سوال کرتی ہوں  ، مجھے بتائیے: رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ سے کیا فرمایا تھا؟ خاتونِ جنّت نے کہا: ہاں  ! اب میں  بتاتی ہوں  ، پہلی بار حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سرگوشی کی تو مجھے یہ خبر دی کہ ہر سال جبرئیل (عَلَیْہِ السَّلام) مجھ سے ایک بار قراٰنِ پاک کا دَور کیا کرتے تھے اس مرتبہ انہوں  نے 2 بار دَور کیا ہے، اب میرا یہی گمان ہے کہ میرا وقْت قریب آ گیا ہے، تم اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور صبْر کرنا، بے شک میں  تمہارا اچھا