اِجتِناب کرتے ہیں ؛ ان میں نمایاں نام شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ہے؛ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ شادی بیاہ کی خوشی میں ہونے والی بے ہودہ تقریبات و رسومات کو نہ صرف خود ناپسند کرتے ہیں بلکہ دیگر مسلمانوں کو بھی ان گناہوں بھرے معمولات سے اِجتِناب کی شفقت آمیز تاکید فرماتے رہتے ہیں ؛ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی بھی سادَگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے عین سنّت کے مطابق کرنے کی کوشش فرمائی تھی۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک مدَنی مذاکرے میں کچھ یوں ارشاد فرمایا: میں نے پوری کوشش کی کہ حضرت سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو میرے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو جو عِنایت فرمایا اس کی پیروی کی جائے۔
واسطے جن کے بنے دونوں جہاں
ان کے گھر تھیں سیدھی سادی شادیاں
اس جہیزِ پاک پر لاکھوں سلام
صاحبِ لَولاک پر لاکھوں سلام
(دیوانِ سالِک از حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان)
مثلاً مشکیزہ، گیہوں پیسنے والی ہاتھ کی چکی، نُقرَئی (نُق۔رَ۔ئی یعنی چاندی کے) کنگن پیش کئے، اسی طرح کی دیگر چیزیں کتابوں سے دیکھ کر جو جو میسر آیا؛