Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
227 - 470
سامان دے کر رخصت فرمایا تھا لیکن یاد رکھو کہ جہیز میں  سامان کا دینا یہ ماں  باپ کی مَحبت وشفقت کی نشانی ہے اور ان کی خوشی کی بات ہے۔ ماں  باپ پر لڑکی کو جہیز دینا یہ فرض و واجِب نہیں  ہے۔ لڑکی اور داماد کے لئے ہرگز ہرگز جائز نہیں  کہ وہ زبردستی ماں  باپ کو مجبور کر کے اپنی پسند کا سامان جہیز میں  وُصول کریں  ، ماں  باپ کی حیثیت اس قابِل ہو یا نہ ہو مگر جہیز میں  اپنی پسند کی چیزوں  کا تقاضا کرنا اور ان کو مجبور کرنا کہ وہ قرض لے کربیٹی، دامادکی خواہش پوری کریں  ، یہ خلافِ شریعت بات ہے بلکہ آج کلتِلَک جیسی رسم مسلمانوں  میں  بھی چل پڑی ہے کہ شادی طے کرتے وقْت ہی یہ شرط لگادیتے ہیں  کہ جہیز میں  فلاں  فلاں  سامان اور اتنی اتنی رقم دینی پڑے گی ، چُنانچہ بہت سے غریبوں  کی لڑکیاں  اسی لئے بیاہی نہیں  جا رہی ہیں  کہ ان کے ماں  باپ لڑکی کے جہیز کی مانگ پوری کرنے کی طاقت نہیں  رکھتے یہ رسم یقیناً خلافِ شریعت ہے اور جبراً قہراً (یعنی بہ زور) ماں  باپ کو مجبور کرکے زبردستی جہیز لینا یہ ناجائز ہے۔ لہٰذا مسلمانوں  پر لازِم ہے کہ اس بری رسم کو ختم کر دیں ۔‘‘(جنّتی زیور، رسومات، ص۱۵۳تا ۱۵۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بِنتِ عطّار کا جہیز
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! آج کے اس پُرفِتَن دَور میں  بھی ایسے لوگ موجود ہیں  جو شادی بیاہ کے موقع پر ہونے والی ان ناجائز رسومات سے