نہ ہوا۔ جب کبھی اکیلے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملاقات ہوتی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِرشاد فرماتے: ’’ اے علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! میں نے تمہارا نِکاح اس کے ساتھ کیاہے جو تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہے۔‘‘
(اَلرَّوْضُ الْفَائِق، المجلس الثامن والاربعون فی زواج علی ۔۔۔الخ، ص۲۷۷)
جہیز کیسا اور کتنا ہو؟
پیاری پیاری اسلامی بہنو! مخدومۂ کائنات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا جہیز کس قدَر سادہ اور مختصر تھا، اور جودیا گیا مولائے کائنات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ کی طرف سے اس کا بھی مُطالَبہ نہ تھا، اس میں اُمّت کے لئے درس ورغبت ہے کہ کثیر اور پُر تَکَلُّف جہیز کا اِہتِمام ضروری نہیں اور نہ ہی لڑکے والے اس کا مُطالَبہ کریں ، یہ سنّت جس قدَر سادگی سے ادا کی جائے بہتر ہے، جیسا کہ
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 679صفْحات پر مشتمل کتاب ’’جنّتی زیور‘‘ صفْحہ153پرشیخُ الحدیث حضرتِ علّامہ مولانا عبدُ المصطفٰے اعظمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تحریر فرماتے ہیں : ’’ماں باپ کچھ کپڑے، کچھ زیورات، کچھ سامان، برتن، پلنگ، بستر، میز کرسی، تخت، جائے نماز، قرآنِ مجید، دینی کتابیں وغیرہ لڑکی کو دے کر سُسرال بھیجتے ہیں یہ لڑکی کا جہیز کہلاتا ہے۔ بلا شبہ یہ جائز بلکہ سنّت ہے کیونکہ ہمارے حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی اپنی پیاری بیٹی حضرت بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو جہیز میں کچھ