کے لئے ساتھ بھیجا۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ اِرشاد فرماتے ہیں : مجھے حُضور نبیِّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے 63 درہم عطا فرمائے تھے، میں نے روئی سے بھرا ہوا موٹے کپڑے کا بستر، چمڑے کا دسترخوان، چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، پانی کے لئے ایک مشکیزہ اور کُوزہ (یعنی مٹی کا آب خورہ) اور نرم اُون کا ایک پردہ خریدا۔ پھر میں ، حضرت ِسلمان اور حضرتِ بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے تھوڑا تھوڑا کرکے وہ سامان اٹھا لیااور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضِر کر دیا۔ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیکھا تو رونے لگے اور آسمان کی جانب نگاہ اُٹھا کر عرْض کی: ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! ایسے لوگوں کو اپنی برَکت سے نواز جن کا شِعار(یعنی طریقہ) ہی تجھ سے ڈرنا ہے۔‘‘
(اَلرَّوْضُ الْفَائِق، المجلس الثامن والاربعون فی زواج علی ۔۔۔الخ، ص۲۷۵ تا ۲۷۷، ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
خاتونِ جنّت کے جہیز کی منظوم( ) تفصیل
مُفسِّرِشہیر، حکیم ُ الا ُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے شہزادیٔ کونَین، والِدۂ حَسَنَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے جہیز کی تفصیل نظْم میں لکھی ہے، مُلاحَظہ فرمائیے اور ترغیب حاصل کیجئے۔
________________________________
1 - … اشعار میں لکھا ہوا کلام ۔