Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
223 - 470
 عَزَّوَجَلَّ   آپ کے جوڑے میں  برَکت و اِتِّفاق عطا فرمائے۔‘‘
سیِّدۂ کائنات کا جہیز
	حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اِرشاد فرماتے ہیں  : ’’میں  نے اپنی زِرہ لی اور بازار میں  حضرتِ سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ کو 400 درہم(1)میں  فروخت کردی۔ جب میں  نے درہموں  پر اور انہوں  نے زِرہ پر قبضہ کر لیا تو مجھ سے فرمانے لگے: ’’اے علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! کیا اب میں  زِرَہ کا اور آپ دراہم کے حق دار نہیں  ؟‘‘  میں  نے کہا: ’’کیوں  نہیں ۔‘‘ تو کہنے لگے: ’’پھر یہ زِرہ میری طرف سے آپ کو ہدِیَّہ (ہَ۔دِیْ۔یَہ یعنی تحفہ) ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں  : ’’میں  نے زِرہ اور دراہم لئے اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ اَقدَس میں  حاضِر ہو کرحضرتِ سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ  کے حسنِ سُلوک کی خبر دی توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں  دعائے خیر وبرکت سے نوازا۔ پھرحضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکو بلا کر انہیں  (مٹھی بھر) درہم دیئے اور فرمایا: ’’ان دراہم کے عِوَض فاطمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)  کے لئے مُناسب اشیاء خرید لاؤ۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی اورحضرتِ سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ  کو خریدی ہوئی اشیاء اُٹھانے میں  مدد


________________________________
1 - … چار سو مثقال(تقریباً 150 تولے) چاندی تھی ولہٰذا علماء ِ سِیَر نے اس پر جزْم فرمایا۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، ج۱۲، ص۱۵۵)