خطبہ پڑھا: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَشُکْرًا لِاَنْعُمِہٖ وَاَیَادِیْہٖ اَشْھَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَلَا شَبِیْہَ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ نَبِیُّہُ الْنَبِیْہُ وَرَسُوْلُہُ الْوجِیْہُ وَصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ وَاَزْوَاجِہٖ وَبَنِیْہِ صَلَاۃً دَآئِمَۃً تُرْضِیْہِ‘‘ ترجمہ: سب تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں اور اس کے انعامات واحسانات پر اس کا شکر ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سِوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ یکتا (اکیلا) ہے، اس کا کوئی شریک ومِثل (یعنی اس جیسا) نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ (حضرت سیِّدُنا) محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں ، اس کے معزز نبی اور عظیم الشّان رسول ہیں ، ان پر اور ان کے آل واصحاب، ازواجِ مطہّرات اور اولاد اَطہار رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ایسی دائمی رحمت ہو جو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خوش کر دے (اٰمین)‘‘۔
اس کے بعد فرمایا: ’’نِکاح اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم پر عمل ہے اور اس نے اس کی اجازت دی ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہزادی حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نِکاح مجھ سے کر دیا ہے اور میری اس زِرَہ کو بطورِ حق مہر(1) مقرَّر فرمایا ہے۔ حاضِرین نے مُبارَک باد دیتے ہوئے کہا: ’’اللہ
________________________________
1 - … خاتونِ جنّت حضرت سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے حق مہر کے متعلق مختلف اَقوال ہیں ۔ تمام اقوال میں نفیس تطبیق دیتے ہوئے اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’اصل مہرِ کریم جس پر عقدِ اقدس واقع ہوا.....