نِکاح کروں گا اور تمہارے وہ فضائل بَیان کروں گا جن سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔‘‘
حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اِرشاد فرماتے ہیں : ’’ میں بارگاہ ِرِسالت عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جلدی سے نکلااورمیں خوشی کی شدت کی وجہ سے خود رفتہ ہوگیا ۔ جب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجِد میں تشریف لائے تو ان کا چہرہ خوشی سے دَمَک رہاتھا۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکو حکم فرمایا کہ وہ مُہاجِرین وانصار کو بلائیں جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منبرِ اَقدَس پر جلوہ افروز ہو کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثنا کی اور اِرشاد فرمایا: ’’ اے مسلمانو! ابھی ابھی حضر تِ جبریل امین عَلَیْہِ السَّلام میرے پاس آئے اور یہ خبر دی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بیتُ المعمو ر کے پاس ملائکہ کو گواہ بنا کر میری بیٹی فاطمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کا نِکاح علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ) سے کر دیا ہے، اور مجھے بھی حکم فرمایا ہے کہ میں زمین پران کانِکاح کر دوں ۔ میں تم سب کوگواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی بیٹی کا نِکاح علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ) سے کر دیا ہے۔‘‘ پھر حُضور نبیِّ اکرم، نورِ مجسم ،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکو خطبۂ نِکاح پڑھنے کا حکم اِرشاد فرمایا۔
خطبۂ نِکاح
حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے کھڑے ہو کر یہ