Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
220 - 470
 عَزَّوَجَلَّ  نے شجرِ طوبیٰ کو حکم دیا کہ وہ اپنے زیورات بکھیرے۔ جب اس نے زیورات کی بوچھاڑ کی تو ملائکہ اور حُوروں  نے سب زیورات چُن لئے اور وہ قِیامت تک یہ زیورات ایک دوسرے کو تحفے میں  دیتے رہیں  گے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے مجھے حکم دیا ہے کہ بارگاہِ رِسالت میں  یہ پیغام پہنچا دوں  کہ زمین پر حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   کی شادی حضرتِ علیُّ المرتضیٰ  کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے کر دیجئے اور حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   کو دو ایسے شہزادوں  کی بِشارت بھی عطا کر دیجئے جو اِنتِہائی ستھرے، عمدہ خصائل (یعنی عادات) وفضائل  کے حامِل، پاکیزہ فطرت اور دونوں  جہاں  میں  بھلائی والے ہوں  گے۔‘‘
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! آسمان پر نِکاح کی تقریب اور بیتُ المعمور(1) میں  فِرِشتوں  کی بارات فاطمہ بتول اور محبوبِ رسول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہَا  کا ہی خاصَّہ (یعنی خاص وصف) ہے۔
	پھرمکّی مدَنی سلطان، رحمتِ عالَمِیّان، سردارِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’اے علی(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! میں  تمہارے مُتَعَلِّقحکمِ الٰہی نافِذ کر رہا ہوں ، تم مسجِد میں  پہنچ جاؤ، میں  بھی آرہا ہوں ۔ میں  لوگوں  کی موجودگی میں  تمہارا


________________________________
1 - … بیتُ المعمور فِرِشتوں  کا قبلہ ہے کعبہ معظمہ کے مقابل ساتویں  آسمان کے اوپر ہے۔(مراٰۃ المناجیح،کتاب الفضائل ،معراج کا بیان، ج۸، ص۱۴۴)